شوگر یا زیابیطس اور اس کاعلاج (Diabetes and its treatment)

آجکل یہ بیماری بہت عام ہوتی جارہی ہے جہاں تک غور کیا جاتا ہے کام کرنے والے حضرات زیادہ مبتلا نظر آتے ہیں کیونکہ گردوں کا تعلق نظام عصبی سے بہت گہرا ہوتا ہے اس کا شمار لاکھوں افراد کو لاحق ہونے والی بیماریوں میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمر کے ساتھ چلنے والی اور مہلک ثابت ہو سکنے والی بیماری ہے۔ شوگر کے علاج کی کنجی خون میں گلوکوز کی ایک مخصوص مقداری سطح کے اندر رہنے کی نگرانی ہے۔ اس مقداری سطح کو بلڈ شوگر لیول کہتے ہیں اس کی نگرانی لیبارٹری ٹیسٹوں یا بلڈ شوگر لیول مونیٹر نامی آلے کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔
خون میں گلوکوز کی زیادتی کی وجہ اس ہارمون کی کمی بنتی ہے جسے انسولین (Insulin) کہتے ہیں اور جسے لبلبہ (pancreas) بناتا ہے۔ انسولین کی کمی کی وجہ سے خون میں موجود گلوکوز خلیات میں پہنچ نہیں پاتا۔ اس سے دوطرفہ نقصان ہوتا ہے کہ ایک طرف خلیات کو توانائی کے لیے درکار اندھن میّسر نہیں آتا تو دوسری طرف خون میں گلوکوز کی مقداری سطح بڑھتی رہتی ہے۔
وجوہات
محنت اور مشقت کی کمی اور دماغی محنت کی زیادتی گرم چیزوں کا زیادہ استعمال ان وجوہات کی بنا پر گردوں کی حرارت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے گردے بار بار پانی کھینچتے ہیں اور کمزوری کی وجہ سے بلا ہضم پیے چھوڑ جاتے ہیں ہیں
علامات
گردوں کی جگہ پر بعض اوقات سوزش اور جلن معلوم ہوتی ہے جس سے لگتی ہے اور پیشاب کی حاجت بار بار ہوتی ہے نیز پیشاب کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے دن بدن بند اور بدن کمزور ہوتا جاتا ہے کچھ عرصہ کے بعد گردوں کی چربی تحلیل ہوکر پیشاب کے ہمراہ خارش ہونے لگتی ہیے-اس کے علاوہ جسم کا بے جان ہونا،روزمرہ کے کاموںکے سرانجام دینے میں دشواری شامل ہیں-
علاج
کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیۓسب سے پہلے قوت ارادی کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے ۔جس کی مددسے انسان یقین اور پرہیز کا ارادہ کرتا ہے۔ دور حاضر میںکوئی بیماری لاعلاج نہیں ہے- اللہ پاک ہماری کاوش کو قبول فرمائیں-

یو ڈی کے ہربل انسانیت کی خدمت کا جذبہ لیے ہوئے پیش کرتا ہے شوگر کے لیے آزمودہ کیپسول ڈائبوفل ، جس کے مسلسل 4 مہینے با پرہیز استعمال سے ہزاروں لوگ بفضلِ خدا شفاء یاب ہوئے ہیں۔ان کے استعمال سے انسولین سے ہمیشہ کیلئے جان چھوٹ جائے گی۔ یہ کیپسول قدرتی اجزاء سے تیار کردہ ہیں اس لیے انکا مسلسل استعمال ہر قسم کے مضر اثرات سے پاک ہے۔

خالص اور میاری جڑیبوٹیاں اور ادویات خریدنے کے لئیے یہاں کلک کریں

 

 

Leave a Reply